صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۲ - حضرت حسنؓ سے نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت
حضرت حسنؓ سے محبت کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا پیار اور دعا
صحیح بخاری : ۲۱۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةِ النَّهَارِ ، لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَتَى سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَجَلَسَ بِفِنَاءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : أَثَمَّ لُكَعُ ، أَثَمَّ لُكَعُ ، فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تُلْبِسُهُ سِخَابًا أَوْ تُغَسِّلُهُ ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَحْبِبْهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ .
ابوہریرہ دوسی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصہ میں تشریف لے چلے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر (واپس ہوئے اور) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا، وہ بچہ کہاں ہے، وہ بچہ کہاں ہے؟فاطمہ رضی اللہ عنہا (کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں۔ میں نے خیال کیا، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا، پھر فرمایا اے اللہ؟! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔سفیان نے کہا کہ عبیداللہ نے مجھے خبر دی، انہوں نے نافع بن جبیر کو دیکھا کہ انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک ہی رکعت پڑھی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی محبت ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم بنی قینقاع کے بازار سے گزر کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھے اور بچے کے بارے میں پوچھا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا اور بوسہ دیا۔ پھر دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔ اس حدیث میں محبت کا انداز بہت سادہ اور صاف ہے۔ بچے کے ساتھ شفقت، اہل بیت سے محبت، اور نیک لوگوں سے محبت رکھنے والوں کے لیے دعا؛ یہ سب باتیں اسی روایت میں صاف طور پر موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں سے شفقت اور محبت نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- حضرت حسنؓ سے محبت ایک پسندیدہ عمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔
- محبت کا اظہار نرم رویے، گلے لگانے اور دعا سے بھی ہوتا ہے۔
