صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۳ - حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا کے دو پھول
حسن و حسین رضی اللہ عنہما میرے دو پھول ہیں: محبت اہل بیت کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ ، قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ ، فَقَالَ : أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۳ کا خلاصہ
یہ حدیث حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت اور ان سے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی محبت کو بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کی حالت میں مکھی مارنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب میں عراق والوں کے سوال پر تعجب کیا اور فرمایا کہ وہ مکھی کے بارے میں پوچھتے ہیں، حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے نواسے کو قتل کیا۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان ذکر کیا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ اہل بیت کے مقام کو پہچانا جائے، اور چھوٹے سوالات کے ساتھ بڑے اخلاقی معاملے کو بھی نہ بھلایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو بہت محبوب تھے۔
- اہل بیت کے بارے میں بے حسی اختیار کرنا درست رویہ نہیں۔
- دینی سوال کے ساتھ اخلاقی حساسیت بھی ضروری ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ میں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی خاص محبت ظاہر ہے۔
