صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۲ - حسن بن علی رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم سے سب سے مشابہ
حسن بن علی رضی اللہ عنہما: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ
صحیح بخاری : ۳۷۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۲
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ " .
انس روایت:
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۲ کا خلاصہ
یہ حدیث حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت کو ایک مختصر مگر مضبوط جملے میں بیان کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ کوئی شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے مشابہ نہیں تھا۔ یہاں مشابہت سے مراد وہ بات ہے جو صحابی نے دیکھی اور بیان کی۔ حدیث میں نہ لمبی تفصیل ہے، نہ کوئی اضافی واقعہ، اس لیے اس کا مرکزی سبق یہی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے خاص مشابہت حاصل تھی۔ حسن رضی اللہ عنہ حدیث، اہل بیت کی فضیلت اور نبی صلى الله عليه وسلم سے مشابہت کے موضوع پر یہ روایت بہت زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ یہ ہمیں اہل بیت کے مقام کو ادب کے ساتھ سمجھنے کی طرف لے جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نبی صلى الله عليه وسلم سے خاص مشابہت بیان ہوئی ہے۔
- صحابہ کرام نے اہل بیت کی فضیلت کو محفوظ کیا۔
- مختصر حدیث بھی بڑا معنی رکھ سکتی ہے۔
- اہل بیت کا ذکر احترام اور احتیاط سے کرنا چاہیے۔
