صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۱ - نام محمد رکھنا اور کنیت ابوالقاسم سے بچنا
نام محمد رکھنے کی حدیث: کنیت ابوالقاسم کے بارے میں نبوی ہدایت
صحیح بخاری : ۲۱۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۱
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، دَعَا رَجُلٌ بِالبَقِيعِ : " يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَمْ أَعْنِكَ ، قَالَ : سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
انس روایت:
ایک شخص نے بقیع میں (کسی کو) پکارا ”اے ابوالقاسم“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، تو اس شخص نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا۔ اس دوسرے آدمی کو پکارا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نام اور کنیت کا ادب ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ بقیع میں ایک شخص نے کسی کو اے ابوالقاسم کہہ کر پکارا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس آواز پر توجہ فرمائی، تو اس آدمی نے بتایا کہ اس نے آپ صلى الله عليه وسلم کو نہیں بلکہ کسی اور شخص کو پکارا تھا۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے صاف ہدایت دی کہ میرے نام پر نام رکھا کرو، لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نام محمد رکھنا جائز ہے، بلکہ اس میں محبت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے، لیکن کنیت ابوالقاسم آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے خاص انداز رکھتی تھی۔ عام فہم بات یہ ہے کہ مسلمان کو نبی صلى الله عليه وسلم کے نام اور نسبت کے معاملے میں ادب اور احتیاط رکھنی چاہیے، تاکہ غلط فہمی یا بے ادبی کا پہلو پیدا نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے نام کے ساتھ ادب اور احترام ضروری ہے۔
- محمد نام رکھنا حدیث کے مطابق جائز ہے۔
- ابوالقاسم کنیت اختیار کرنے سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
