صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۰ - نام رکھو مگر کنیت نہیں
محمد نام رکھنے کی حدیث: نام رکھو، کنیت نہ رکھو
صحیح بخاری : ۲۱۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۰
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بازار میں تھے۔ کہ ایک شخص نے پکارا یا ابا القاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا۔ (کیونکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہی تھی) اس پر اس شخص نے کہا کہ میں نے تو اس کو بلایا تھا۔ (یعنی ایک دوسرے شخص کو جو ابوالقاسم ہی کنیت رکھتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت تم اپنے لیے نہ رکھو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے۔ ایک شخص نے پکارا: یا ابا القاسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، کیونکہ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے تو ایک دوسرے آدمی کو بلایا تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے نام پر نام رکھا کرو، لیکن میری کنیت اپنے لیے نہ رکھو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نام اور کنیت ہے۔ متن سے صاف سمجھ آتا ہے کہ نام رکھنے کی اجازت دی گئی، مگر کنیت کے بارے میں ممانعت فرمائی گئی، تاکہ پکارنے میں اشتباہ نہ ہو۔ محمد نام کی حدیث، ابو القاسم کنیت، نام رکھنے کا حکم اور کنیت رکھنے کی حدیث اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ اس میں سادگی کے ساتھ ادب اور پہچان کا معاملہ سمجھایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت رکھنے سے منع فرمایا۔
- پکارنے میں اشتباہ ہو تو وضاحت ضروری ہے۔
- نام اور کنیت کے معاملے میں نبوی ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے۔
