صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۹ - جماعت کی نماز کی فضیلت
جماعت کی نماز کی فضیلت: مسجد تک ہر قدم کا اجر
صحیح بخاری : ۲۱۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ أَحَدِكُمْ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ ، وَبَيْتِهِ ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، وَذَلِكَ بِأَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً ، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، وَالْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ ، وَقَالَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جماعت کے ساتھ کسی کی نماز بازار میں یا اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے درجوں میں کچھ اوپر بیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ کیونکہ جب ایک شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں صرف نماز کے ارادہ سے آتا ہے۔نماز کے سوا اور کوئی چیز اسے لے جانے کا باعث نہیں بنتی تو جو بھی قدم وہ اٹھاتا ہے اس سے ایک درجہ اس کا بلند ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے ایک گناہ اس کا معاف ہوتا ہے اور جب تک ایک شخص اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے جس پر اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے برابر اس کے لیے رحمت کی دعائیں یوں کرتے رہتے ہیں «اللهم صل عليه، اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما۔“ یہ اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک وہ وضو توڑ کر فرشتوں کو تکلیف نہ پہنچائے جتنی دیر تک بھی آدمی نماز کی وجہ سے رکا رہتا ہے وہ سب نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں جماعت کی نماز کی فضیلت بہت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز، بازار یا گھر میں نماز پڑھنے سے بیس سے کچھ اوپر درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ وجہ یہ بیان ہوئی کہ آدمی اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد صرف نماز کے ارادے سے آتا ہے۔ ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے یا ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں، جب تک وہ وضو نہ توڑے اور تکلیف نہ دے۔ جتنی دیر نماز کی وجہ سے رکا رہے، وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع جماعت کی نماز، مسجد جانا، وضو اور نماز کا انتظار ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت کی نماز گھر یا بازار کی نماز سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
- مسجد کی طرف نماز کے ارادے سے اٹھنے والا ہر قدم اہم ہے۔
- نماز کے بعد مصلے پر بیٹھنے والے کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں۔
- نماز کے انتظار کا وقت بھی نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
