صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۸ - نام محمد رکھنے کی اجازت
نام محمد رکھنے کی حدیث اور ابوالقاسم کنیت کا ادب
صحیح بخاری : ۶۱۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
ابوہریرہ روایت:
ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۸ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث بہت واضح بات بیان کرتی ہے۔ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔ یعنی اس روایت میں نام رکھنے کی اجازت اور کنیت اختیار کرنے کی ممانعت ایک ہی جملے میں بیان ہوئی ہے۔ عام سرچ میں لوگ اسے نام محمد رکھنے کی حدیث، ابوالقاسم کنیت کا حکم، اور سموا باسمی ولا تکنوا بکنیتی کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔ اس متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے نسبت محبت اور ادب کے ساتھ ہو، مگر وہ کنیت جو آپ کے لیے خاص بیان ہوئی، اسے اختیار نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی گئی۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت اختیار کرنے سے منع کیا گیا۔
- مختصر حدیث بھی دینی ادب کا واضح اصول بتا سکتی ہے۔
