صحیح بخاری حدیث ۶۱۹۷ - جھوٹی بات منسوب کرنے کی سخت وعید
نبی صلى الله عليه وسلم پر جھوٹ باندھنے کی حدیث اور سچائی کا سبق
صحیح بخاری : ۶۱۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۹۷
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میرے نام پر نام رکھو لیکن تم میری کنیت نہ اختیار کرو اور جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جس نے قصداً میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کی اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث تین باتیں بیان کرتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو، مگر میری کنیت اختیار نہ کرو۔ دوسری بات یہ کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے آپ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان آپ کی صورت میں نہیں آ سکتا۔ تیسری بات بہت سخت ہے: جس نے جان بوجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اس حدیث کا بڑا سبق سچائی اور حدیث بیان کرنے میں احتیاط ہے۔ اس متن میں خواب، کنیت، اور جھوٹ تینوں مضمون آئے ہیں، اس لیے وضاحت کرتے وقت انہیں آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنے اور کنیت نہ رکھنے کا حکم آیا ہے۔
- خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بارے میں خاص بات بیان ہوئی ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھنے پر سخت وعید آئی ہے۔
