صحیح بخاری حدیث ۶۱۹۶ - میں قاسم ہوں، تم میں تقسیم کرتا ہوں

میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت نہ رکھو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۹۶

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " ، وَرَوَاهُ أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

جریر بن عبداللہ انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو کیونکہ میں قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں اور تمہارے درمیان (علوم دین کو) تقسیم کرتا ہوں۔“ اور اس روایت کو انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو، کیونکہ میں قاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ اردو سرچ میں یہ حدیث محمد نام رکھنے کی حدیث، ابوالقاسم کنیت کا حکم، اور میں قاسم ہوں حدیث کے نام سے تلاش کی جاتی ہے۔ اس روایت میں ایک اضافی وجہ بھی بیان ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قاسم ہیں۔ ترجمے میں تقسیم سے مراد علوم دین کو تقسیم کرنا ذکر ہوا ہے۔ متن سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ نام رکھنے کی اجازت موجود ہے، مگر کنیت کے معاملے میں خاص ممانعت ہے۔ اس روایت کو انس رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہونے کا ذکر متن میں آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنے کی اجازت اس حدیث میں دی گئی۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے قاسم ہونے کا معنی بھی بیان فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں