صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۷ - میرے نام پر نام رکھو

میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۷

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا : لَا نَكْنِيهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .

جابر روایت:

ہم میں سے ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں۔ ہم اس نام پر تمہاری کنیت نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور کنیت کا ادب ہے۔ ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس کا نام قاسم رکھا گیا۔ صحابہ نے فوراً کنیت کے مسئلے میں احتیاط کی اور کہا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں، اس نام پر تمہاری کنیت نہیں بننے دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد نام رکھنا اس متن کے مطابق جائز بتایا گیا، مگر ابوالقاسم کنیت سے روکا گیا۔ حدیث میں قاسم نام، ابوالقاسم کنیت، اور نام رکھنے کی اجازت کا مسئلہ مختصر مگر واضح انداز میں آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنے کی اجازت اس حدیث میں موجود ہے۔
  • ابوالقاسم کنیت اختیار کرنے سے اس روایت میں منع کیا گیا ہے۔
  • دینی معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پوچھ کر عمل کرتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں