صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۹ - قاسم نام اور عبدالرحمٰن کی رہنمائی

قاسم نام، ابوالقاسم کنیت اور عبدالرحمٰن نام کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا لَا نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " .

جابر بن عبداللہ انصاری روایت:

ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۹ کا خلاصہ

اس روایت میں وہی واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے کہ ایک آدمی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام قاسم رکھا گیا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور اس کنیت سے تمہیں خوش نہیں کریں گے۔ جب وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بات عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔ یہاں بات نام بدلنے، قاسم نام، اور ابوالقاسم کنیت کے ادب سے متعلق ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ صحابہ اس مسئلے کو اپنی رائے پر ختم نہیں کرتے تھے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لیتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی ادب کے معاملے میں صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے۔
  • ابوالقاسم کنیت کے بارے میں صحابہ نے خاص احتیاط کی۔
  • اشکال پیدا ہو تو بچے کے لیے دوسرا اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں