صحیح بخاری حدیث ۶۱۹۰ - برا معنی رکھنے والے نام کی تبدیلی
حزن سے سہل: اچھے معنی والے اسلامی نام کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۹۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَاهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : حَزْنٌ قَالَ : " أَنْتَ سَهْلٌ " قَالَ : لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : فَمَا زَالَتِ الْحُزُونَةُ فِينَا بَعْدُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَحْمُودٌ هُوَ ابْنُ غَيْلانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، بِهَذَا .
مسیب روایت:
´ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ان کے والد مسیب رضی اللہ عنہ نے کہ` ان کے والد (حزن بن ابی وہب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ «حزن» (بمعنی سختی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم «سهل» (بمعنی نرمی) ہو، پھر انہوں نے کہا کہ میرا نام میرے والد رکھ گئے ہیں اسے میں نہیں بدلوں گا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے تھے کہ چنانچہ ہمارے خاندان میں بعد تک ہمیشہ سختی اور مصیبت کا دور رہا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نام کے معنی کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ حزن بن ابی وہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نام پوچھا۔ انہوں نے کہا: حزن، یعنی سختی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سہل ہو، یعنی نرمی یا آسانی۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد نے جو نام رکھا ہے، میں اسے نہیں بدلوں گا۔ راوی ابن مسیب رحمہ اللہ نے بعد میں کہا کہ ہمارے خاندان میں سختی اور مصیبت کا اثر باقی رہا۔ اس روایت سے صرف اتنی بات لی جا سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت معنی والے نام کے بجائے نرم اور بہتر معنی والا نام پسند فرمایا۔ نام کی اصلاح اور اچھے نام کا انتخاب یہاں اصل موضوع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نام کا معنی اچھا ہو تو یہ بہتر اور پسندیدہ بات ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت معنی والے نام کے بدلے سہل نام تجویز فرمایا۔
- والد کے رکھے ہوئے نام کا ذکر آیا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز بھی واضح تھی۔
