صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۵ - ملک الاملاک نام کی ممانعت
ملک الاملاک نام کی حدیث اور تکبر والے القاب سے بچاؤ
صحیح بخاری : ۶۲۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۰۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْنَى الْأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس کا ہو گا جو اپنا نام ملک الاملاک (شہنشاہ) رکھے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہو گا جو اپنا نام ملک الاملاک رکھے۔ اردو میں اسے شہنشاہ نام کی حدیث، ملک الاملاک کا حکم، اور تکبر والے نام کی ممانعت کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ ایسے نام یا لقب سے بچنا چاہیے جو بڑائی، بادشاہت اور سب پر مالک ہونے کا تاثر دے۔ متن میں خاص لفظ ملک الاملاک آیا ہے، اس لیے وضاحت اسی لفظ کے گرد رہنی چاہیے۔ اس حدیث سے اچھے اسلامی نام رکھنے کا اصول بھی سمجھ آتا ہے، مگر کسی نئے نام پر حکم لگانے کے لیے الگ علمی تحقیق درکار ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ملک الاملاک نام کو اس حدیث میں اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام کہا گیا ہے۔
- نام یا لقب میں حد سے بڑھی ہوئی بڑائی کا تاثر نہیں ہونا چاہیے۔
- اچھے نام کے ساتھ عاجزی اور اللہ کی بڑائی کا ادب ملحوظ رہنا چاہیے۔
