صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۶ - ملک الاملاک نام رکھنے کی ممانعت

ملک الاملاک نام کی حدیث: نام رکھنے میں عاجزی اور ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۰۶

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً قَالَ : " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ : أَخْنَعُ الْأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَقُولُ غَيْرُهُ تَفْسِيرُهُ شَاهَانْ شَاهْ " .

ابوہریرہ روایت:

اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام۔ اور کبھی سفیان نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ روایت اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں (جمع کے صیغے کے ساتھ) میں اس کا نام ہو گا جو ”ملک الاملاک“ اپنا نام رکھے گا۔ سفیان نے بیان کیا کہ ابوالزناد کے غیر نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ”شاہان شاہ“۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ناموں کا ادب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں میں وہ نام ہے جو کوئی شخص اپنے لیے ملک الاملاک رکھے۔ سفیان بن عیینہ کے بیان کے مطابق اس کا مفہوم شاہان شاہ ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے نام، لقب اور تعارف میں حد سے بڑھنے والی بات سے بچنا چاہیے۔ نام صرف پہچان نہیں ہوتا، اس میں آدمی کا مزاج بھی جھلکتا ہے۔ اس حدیث میں خاص طور پر ایسے لقب سے روکا گیا ہے جس میں بادشاہوں کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ پایا جائے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ بڑائی اللہ ہی کے لیے ہے، اس لیے مسلمان کو ایسا نام پسند نہیں کرنا چاہیے جو بندگی اور عاجزی کے خلاف ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایسے نام اور لقب اختیار نہ کیے جائیں جن میں حد سے بڑھی ہوئی بڑائی کا معنی ہو۔
  • ملک الاملاک یا شاہان شاہ جیسے لقب سے بچنا چاہیے کیونکہ حدیث میں اسے سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
  • نام رکھتے وقت اسلامی ادب اور عاجزی کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • انسان کا تعارف بھی اللہ کے سامنے بندگی کے مزاج کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں