صحیح بخاری حدیث ۲۱۳ - نماز میں نیند آئے تو کیا کریں
نماز میں نیند آئے تو پہلے آرام کریں
صحیح بخاری : ۲۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ " .
انس روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز میں اونگھنے لگو تو سو جانا چاہیے۔ پھر اس وقت نماز پڑھے جب جان لے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، پھر اس وقت نماز پڑھے جب وہ جان لے کہ کیا پڑھ رہا ہے۔ یہ بات بہت سادہ ہے، مگر عبادت کے ایک بڑے ادب کو سمجھاتی ہے۔ نماز میں صرف الفاظ زبان سے ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ انسان کو سمجھ بھی ہونی چاہیے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اگر نیند اتنی غالب ہو جائے کہ آدمی کو اپنے الفاظ کا علم نہ رہے تو حدیث کے مطابق پہلے آرام کرے۔ اس روایت میں نماز، نیند، پڑھائی اور سمجھ کا تعلق صاف بیان ہوا ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف سے ایک آسان اور انسانی حالت کے مطابق ہدایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں شدید اونگھ آئے تو پہلے سو جانا چاہیے۔
- نماز اس وقت پڑھی جائے جب آدمی کو اپنی پڑھائی کا علم ہو۔
- عبادت میں سمجھ اور ہوش کا خیال رکھا گیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آسانی کے ساتھ عمل کی رہنمائی فرمائی۔
