صحیح بخاری حدیث ۲۱۴ - ہر نماز کے لیے وضو
ہر نماز کے لیے وضو اور وضو باقی رہنے کا مسئلہ
صحیح بخاری : ۲۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا . ح قَالَ : وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " ، قُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ : يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے نیا وضو فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا تم لوگ کس طرح کرتے تھے، کہنے لگے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا وضو اس وقت تک کافی ہوتا، جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آ جاتی۔ (یعنی پیشاب، پاخانہ، یا نیند وغیرہ)۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ تم لوگ کیسے کرتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی کو اس کا وضو کافی ہوتا جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آتی۔ اس روایت میں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول کہ ہر نماز کے لیے وضو فرماتے، اور صحابہ کا عمل کہ وضو باقی رہنے تک اسی وضو سے نماز پڑھتے۔ اس سے وضو کے بارے میں ایک عملی سمجھ ملتی ہے۔ حدیث میں وضو ٹوٹنے والی چیزوں کی تفصیلی فہرست نہیں دی گئی، صرف اتنا کہا گیا کہ جب تک حدث نہ ہو۔ اس لیے بات کو اسی حد تک بیان کرنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے۔
- صحابہ کا وضو باقی رہتا تو وہ اسی وضو سے نماز پڑھتے۔
- وضو ٹوٹنے کے بعد نیا وضو ضروری ہوتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل اور صحابہ کا جواب دونوں حدیث میں موجود ہیں۔
