صحیح بخاری حدیث ۲۰۱ - وضو اور غسل میں پانی کا اعتدال

وضو میں پانی کا استعمال: نبی صلى الله عليه وسلم کا معتدل طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۱

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا (یہ کہا کہ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک (پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد (پانی) سے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث وضو میں پانی کا استعمال اور غسل میں پانی کی مقدار کے بارے میں ایک صاف بات بتاتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم غسل کرتے وقت ایک صاع سے پانچ مد تک پانی استعمال فرماتے، اور وضو ایک مد پانی سے کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکی حاصل کرنے کے لیے پانی بہانا ہی اصل مقصد نہیں، بلکہ صحیح طریقے سے کم اور مناسب پانی استعمال کرنا بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں شامل تھا۔ آج لوگ وضو کرتے وقت پانی بہت زیادہ بہا دیتے ہیں، جبکہ اس حدیث میں وضو کا مسنون طریقہ سادگی اور اعتدال کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ عبادت میں پاکی بھی ہو اور پانی کے استعمال میں حد سے بڑھنا بھی نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو میں ضرورت کے مطابق پانی استعمال کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • غسل کے لیے بھی پانی میں اعتدال رکھا جا سکتا ہے۔
  • پاکی حاصل کرنے میں طریقہ درست ہونا زیادہ اہم ہے، صرف پانی زیادہ بہانا نہیں۔
  • مسلمان کو روزمرہ عبادات میں سادگی اور احتیاط اپنانی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں