صحیح بخاری حدیث ۲۱۱ - دودھ پینے کے بعد کلی
دودھ پینے کے بعد کلی: نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ طریقہ
صحیح بخاری : ۲۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ ، وَقَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا " ، تَابَعَهُ يُونُسُ ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس حدیث میں عقیل کی یونس اور صالح بن کیسان نے زہری سے متابعت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دودھ پیا، پھر کلی کی، اور فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ حدیث کا اصل موضوع دودھ پینے کے بعد کلی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دودھ پینے کے بعد منہ صاف کیا اور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس روایت میں نیا وضو کرنے کا ذکر نہیں، بلکہ کلی کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کو اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ دودھ جیسی چیز پینے کے بعد منہ کی صفائی کے لیے کلی کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ جو لوگ دودھ پینے کے بعد وضو یا کلی کی حدیث تلاش کرتے ہیں، انہیں اس روایت میں صاف جواب ملتا ہے کہ یہاں خاص طور پر کلی کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دودھ پینے کے بعد کلی فرمائی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے کلی کی وجہ دودھ کی چکنائی بتائی۔
- کھانے پینے کے بعد منہ کی صفائی کا خیال رکھنا اچھا عمل ہے۔
- حدیث میں جہاں کلی کا ذکر ہو، وہاں اسی کو اصل بات سمجھنا چاہیے۔
