صحیح بخاری حدیث ۲۰۹ - ستو کھانے کے بعد کلی اور نماز
ستو کھانے کے بعد کلی: نیا وضو نہیں کیا گیا
صحیح بخاری : ۲۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
سوید بن نعمان روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ` فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صہبا کی طرف، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور ہم نے (بھی) کھایا۔ پھر مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ہم نے (بھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۹ کا خلاصہ
یہ حدیث خیبر کے سال کا ایک واقعہ بیان کرتی ہے۔ حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ صہبا کے مقام تک پہنچے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر کھانا منگوایا گیا، مگر ستو کے سوا کچھ نہیں آیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے اسے بھگویا گیا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بھی کھایا اور صحابہ نے بھی کھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے کلی کی، صحابہ نے بھی کلی کی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔ یہ روایت کھانے کے بعد وضو کے بجائے کلی کرنے کے عمل کو بیان کرتی ہے، خاص طور پر ستو کھانے کے بعد۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے: اس واقعہ میں کھانے کے بعد کلی ہوئی، مگر نیا وضو نہیں ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ستو کھانے کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے کلی فرمائی۔
- صحابہ نے بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے کلی کی۔
- اس واقعہ میں مغرب کی نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا گیا۔
- کھانے کے بعد صفائی کا سادہ عمل حدیث میں موجود ہے۔
