صحیح بخاری حدیث ۲۱۰ - شانہ کھانے کے بعد نماز
بکری کا شانہ کھانے کے بعد نیا وضو نہ کرنا
صحیح بخاری : ۲۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰
وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
میمونہ روایت:
´ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے یہاں بکری کا شانہ کھایا، پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر موضوع صاف ہے: کھانے کے بعد وضو۔ اس میں بکری کے شانہ کا ذکر ہے اور اس کے بعد نماز کا ذکر ہے۔ پھر واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نیا وضو نہیں کیا گیا۔ اس سے صرف وہی بات سمجھ آتی ہے جو حدیث میں بیان ہے، یعنی اس واقعہ میں کھانے کے بعد نیا وضو نہیں ہوا۔ جو لوگ گوشت کھانے کے بعد وضو کی حدیث یا کھانے کے بعد نماز کا حکم تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کا سادہ بیان پیش کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بکری کا شانہ کھانے کے بعد نماز پڑھی۔
- حدیث کے مطابق اس موقع پر نیا وضو نہیں فرمایا گیا۔
- ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے گھر کے واقعہ کو بیان کیا۔
- حدیث کے مختصر الفاظ سے ہی اصل بات سمجھنی چاہیے۔
