صحیح بخاری حدیث ۲۱۷ - استنجاء کے لیے پانی
پانی سے استنجاء: نبی صلى الله عليه وسلم کا پاکی والا عمل
صحیح بخاری : ۲۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس پانی لاتے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم اس پانی سے استنجاء فرماتے۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر طہارت کے بارے میں ایک صاف عملی بات بتاتی ہے۔ رفع حاجت کے بعد پاکی حاصل کرنے کے لیے پانی استعمال کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ حدیث میں صرف پانی لانے اور اس سے دھونے کا ذکر ہے، اس لیے اسی بات پر اکتفا کرنا چاہیے۔ جو لوگ پانی سے استنجاء کی حدیث، طہارت کا طریقہ یا رفع حاجت کے بعد پاکی کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی آسان مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجاء فرماتے تھے۔
- طہارت کے لیے پانی کا استعمال حدیث میں واضح طور پر آیا ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پانی پیش کرتے تھے۔
- پاکی روزمرہ دینی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
