صحیح بخاری حدیث ۲۱۹ - مسجد میں پیشاب اور صفائی
مسجد کی صفائی: پیشاب پر پانی بہانے کا حکم
صحیح بخاری : ۲۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۹
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَعْرَابِيًّا يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " دَعُوهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو جب وہ فارغ ہو گیا تو پانی منگا کر آپ نے (اس جگہ) بہا دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے دیکھا۔ لوگوں نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پانی منگوایا اور اس جگہ بہا دیا۔ یہ حدیث مسجد کی پاکی اور نرمی کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک واقعہ بیان کرتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے صورت حال کو بڑھنے نہیں دیا، پھر جگہ کو پانی سے پاک کرایا۔ حدیث میں اس دیہاتی کو سختی سے روکنے یا فوراً ڈانٹنے کا ذکر نہیں، بلکہ پہلے اسے فارغ ہونے دیا گیا۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسجد کی صفائی بھی ضروری ہے اور غلطی کرنے والے سے معاملہ حکمت کے ساتھ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد کی جگہ کو ناپاکی سے پاک کرنا ضروری ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جلد بازی کے بجائے نرمی والا طریقہ اختیار فرمایا۔
- پیشاب والی جگہ پر پانی بہا کر صفائی کی گئی۔
- غلطی ہو جائے تو اسے درست طریقے سے سنبھالنا چاہیے۔
