صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۸ - سود ادھار میں ہے
لا ربا إلا في النسيئة: سود اور ادھار کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ ، فَقُلْتُ لَهُ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَقُولُهُ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَأَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، قَالَ : كُلَّ ذَلِكَ لَا أَقُولُ ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ .
ابو سعید خدری روایت:
دینار، دینار کے بدلے میں اور درہم، درہم کے بدلے میں (بیچا جا سکتا ہے) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا کہ آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا کتاب اللہ میں آپ نے اسے پایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کا میں دعویدار نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی احادیث) کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مذکورہ صورتوں میں) سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کے بارے میں بات نقل ہوئی ہے۔ راوی نے عرض کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا کتاب اللہ میں پائی ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہ ان میں سے کسی بات کا دعویٰ نہیں کرتے، البتہ انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع ربا نسیئہ، دینار، درہم اور علمی گفتگو ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کا ذکر آیا ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی بات کے ماخذ کو واضح کیا۔
- اسامہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ادھار کی صورت میں سود کا ذکر نقل ہوا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم دینی بات کی نسبت احتیاط کے ساتھ بیان کرتے تھے۔
