صحیح بخاری حدیث ۲۱۸۰ - سونا چاندی ادھار بیچنے کی ممانعت

سونا چاندی کے بدلے ادھار بیچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۸۰

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ : هَذَا خَيْرٌ مِنِّي ، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا " .

ابوالمنہال روایت:

میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوالمنہال بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق پوچھا۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے بارے میں کہا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیع صرف، سونا، چاندی اور ادھار کی ممانعت ہے۔ حدیث کی زبان بہت صاف ہے: سونا چاندی کے بدلے دین کی صورت میں فروخت نہ کیا جائے۔ اس روایت میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی عاجزی بھی دکھائی دیتی ہے کہ ہر ایک دوسرے کو بہتر کہہ رہا تھا، پھر دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بیان کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سونے کو چاندی کے بدلے ادھار بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • بیع صرف کے مسئلے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا۔
  • براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے ایک ہی حکم بیان کیا۔
  • دینی علم میں عاجزی اور احتیاط کا انداز اس روایت میں نظر آتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں