صحیح بخاری حدیث ۲۲ - رائی کے دانے برابر ایمان کی نجات

رائی کے دانے برابر ایمان کی حدیث اور اللہ کی رحمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ شَكَّ مَالِكٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً " ، قَالَ وُهَيْبٌ : حَدَّثَنَا عَمْرٌو الْحَيَاةِ ، وَقَالَ : خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ .

ابو سعید خدری روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب (ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے) «حياة»، اور ( «خردل من ايمان») کی بجائے ( «خردل من خير») کا لفظ بیان کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایمان کے درجے اور اللہ کے حکم سے نجات کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لو۔ پھر وہ لوگ نکالے جائیں گے، حالانکہ وہ جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں زندگی کی نہر یا بارش کے پانی میں ڈالا جائے گا، پھر وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے۔ اس حدیث میں رائی کے دانے برابر ایمان، دوزخ سے نجات، زندگی کی نہر اور ایمان کی قدر جیسے موضوعات صاف ملتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دل میں موجود ایمان کی معمولی مقدار بھی اللہ کے حکم سے نجات کا سبب بن سکتی ہے۔
  • دوزخ سے نکالے جانے کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور رحمت سے جڑا ہے۔
  • ایمان کے درجات ہوتے ہیں، ہر شخص کا حال ایک جیسا نہیں ہوتا۔
  • حدیث میں آخرت کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے سمجھنے کی تعلیم ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں