صحیح بخاری حدیث ۲۱ - ایمان کا مزہ اور اللہ کے لیے محبت
حلاوت ایمان کی حدیث: اللہ کے لیے محبت اور کفر سے نفرت
صحیح بخاری : ۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ ، مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ " .
انس روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا، ایک یہ کہ وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ عزیز ہوں اور دوسرے یہ کہ جو کسی بندے سے محض اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور تیسری بات یہ کہ جسے اللہ نے کفر سے نجات دی ہو، پھر دوبارہ کفر اختیار کرنے کو وہ ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں گر جانے کو برا جانتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حلاوت ایمان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں بتائیں جن کے ذریعے بندہ ایمان کا مزہ پاتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انسان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بندے سے محبت ہو تو صرف اللہ کے لیے ہو، نہ کہ دنیاوی فائدے کے لیے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ نے کفر سے بچایا ہو تو دوبارہ کفر کی طرف جانا اتنا برا لگے جیسے آگ میں ڈال دیا جانا برا لگتا ہے۔ اس حدیث میں ایمان کا مزہ، اللہ کے لیے محبت، حب رسول اور کفر سے نفرت جیسے اہم الفاظ صاف طور پر آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ہر محبت سے اوپر رکھنا ایمان کی بڑی نشانی ہے۔
- کسی سے محبت کرتے وقت نیت اللہ کی رضا ہونی چاہیے، صرف دنیاوی فائدہ نہیں۔
- کفر سے بچ جانے کے بعد اس کی طرف پلٹنے کو سخت ناپسند کرنا ایمان کی حفاظت کا حصہ ہے۔
- ایمان صرف دعویٰ نہیں، دل کی پسند اور ناپسند سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
