صحیح بخاری حدیث ۲۲۰۵ - مزابنہ کی ممانعت
مزابنہ کی حدیث: پھل اور غلے کے غیر واضح سودوں سے بچیں
صحیح بخاری : ۲۲۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ " ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں مزابنہ کی حدیث بیان ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ حدیث میں اس کی مثال بھی آئی ہے: باغ کی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنا، انگور کو خشک انگور یعنی کشمش کے بدلے ناپ کر بیچنا، اور کھیتی کو ناپے ہوئے غلے کے بدلے بیچنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خرید و فروخت میں اندازے، خطرے اور غیر واضح تبادلے سے بچنا چاہیے۔ مزابنہ کا حکم، پھل کی بیع اور حلال تجارت جیسے موضوعات میں یہ حدیث بہت بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- باغ کے پھل کو اس کے خشک بدلے کے ساتھ ناپ کر بیچنے سے منع کیا گیا۔
- کھیتی کو ناپے ہوئے غلے کے بدلے بیچنے کی صورت بھی منع کی گئی۔
- بیع میں غیر واضح اندازہ جھگڑے کا سبب بن سکتا ہے۔
- تجارت میں ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے حدیث نے روکا ہو۔
