صحیح بخاری حدیث ۲۲۱ - مسجد کی پاکی اور نرمی
مسجد کی پاکی کی حدیث: نرمی کے ساتھ صفائی کا سبق
صحیح بخاری : ۲۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۱
حَدَّثَنَا خَالِدُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُ النَّاسُ ، فَنَهَاهَمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأُهْرِيقَ عَلَيْهِ " .
انس بن مالک روایت:
ایک دیہاتی شخص آیا اور اس نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے اس کو منع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا۔ جب وہ پیشاب کر کے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے پیشاب) پر ایک ڈول پانی بہانے کا حکم دیا۔ چنانچہ بہا دیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسجد کی پاکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی ہے۔ ایک دیہاتی شخص نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا۔ لوگ فوراً اسے روکنے لگے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر ایک ڈول پانی بہانے کا حکم دیا۔ اس سے مسجد کی صفائی کا آسان طریقہ بھی معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی کہ غلطی کرنے والے کے ساتھ جلدی میں سختی نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں اصل توجہ مسجد کی حرمت، نجاست کی صفائی، اور حکمت کے ساتھ اصلاح پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد کو پاک رکھنا ضروری ہے۔
- غلطی کرنے والے کو سمجھاتے وقت نرمی بہتر ہے۔
- پیشاب والی جگہ کو پانی بہا کر پاک کیا گیا۔
- جلد بازی میں روک ٹوک کبھی نقصان بڑھا سکتی ہے۔
