صحیح بخاری حدیث ۲۲۲ - بچے کے پیشاب پر پانی ڈالنا
بچے کے پیشاب کی حدیث: کپڑے پر پانی ڈالنے کا حکم
صحیح بخاری : ۲۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور اس پر ڈال دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بچے کے پیشاب سے کپڑے کی پاکی کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا۔ اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس جگہ پر ڈال دیا۔ حدیث کا انداز بہت سادہ ہے: ناپاکی ہو جائے تو پریشان ہونے کے بجائے پانی سے اسے دور کیا جائے۔ اس روایت سے بچے کے پیشاب، کپڑے کی صفائی، اور پاکی کے معاملے میں آسانی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے پر غصہ نہیں کیا بلکہ عملی طریقہ بتایا کہ متاثرہ جگہ پر پانی ڈالا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کی وجہ سے کپڑا ناپاک ہو جائے تو پانی استعمال کیا گیا۔
- صفائی کے معاملے میں آسان طریقہ اختیار کیا گیا۔
- بچوں کے ساتھ نرمی اور تحمل کا معاملہ کیا گیا۔
- پاکی کے لیے عملی طریقہ حدیث میں واضح ہے۔
