صحیح بخاری حدیث ۲۲۳ - شیرخوار بچے کے پیشاب پر چھڑکاؤ
شیرخوار بچے کے پیشاب کی حدیث: پانی چھڑکنے کا آسان طریقہ
صحیح بخاری : ۲۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، " أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجْرِهِ ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ " .
ام قیس بنت محصن روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (بن مسعود) سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں، وہ ام قیس بنت محصن نامی ایک خاتون سے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئیں۔ جو کھانا نہیں کھاتا تھا۔ (یعنی شیرخوار تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام قیس رضی اللہ عنہا اپنے چھوٹے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائیں۔ بچہ ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، یعنی شیرخوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھایا، پھر بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔ اس حدیث میں شیرخوار بچے کے پیشاب، کپڑے کی پاکی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آسان طریقے کا ذکر ہے۔ متن سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اس خاص حالت میں پانی چھڑکنا کافی رکھا گیا، نہ کہ مکمل دھلائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شیرخوار بچے کے پیشاب کے لیے پانی چھڑکنے کا ذکر ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بچے کو اپنی گود میں بٹھایا، یہ نرمی کا انداز ہے۔
- پاکی کے مسئلے میں حدیث نے آسان طریقہ بتایا۔
- حکم اسی بچے کے بارے میں ہے جو کھانا نہیں کھاتا تھا۔
