صحیح بخاری حدیث ۲۲۴۱ - بیع سلم میں وزن اور مدت کی شرط
بیع سلم کی حدیث: مقررہ وزن اور مقررہ مدت کی شرط
صحیح بخاری : ۲۲۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۴۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقررہ وزن اور مقررہ مدت تک کے لیے (بیع سلم) ہونی چاہئے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بیع سلم ہے، یعنی ایسا سودا جس میں قیمت پہلے دی جاتی ہے اور چیز بعد میں ملتی ہے۔ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف ہدایت دی کہ یہ معاملہ مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے ساتھ ہو۔ اس سے بیع سلم کی حدیث کا اصل پیغام سمجھ آتا ہے کہ خرید و فروخت میں بات مبہم نہ رہے۔ مقدار، وزن اور وقت پہلے ہی طے ہوں تو فریقین کے درمیان جھگڑے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہاں اصل زور اسی بات پر ہے کہ سودا معلوم شرطوں پر کیا جائے۔ اس لیے بیع سلم کے مسائل میں یہ حدیث بہت اہم سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر جب اناج، پھل یا وزن والی چیز کا معاملہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع سلم میں وزن پہلے سے واضح ہونا چاہیے۔
- مدت طے کر کے سودا کرنا معاملے کو صاف بناتا ہے۔
- خرید و فروخت میں مبہم باتوں سے بچنا چاہیے۔
- حدیث میں اصل زور معلوم وزن اور معلوم وقت پر ہے۔
