صحیح بخاری حدیث ۲۲۷ - حیض کا خون کپڑے پر لگ جائے
حیض کے خون کی حدیث: کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ
صحیح بخاری : ۲۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَحُتُّهُ ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ وَتَنْضَحُهُ وَتُصَلِّي فِيهِ " .
اسماء روایت:
ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! فرمائیے ہم میں سے کسی عورت کو کپڑے میں حیض آ جائے (تو) وہ کیا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کسی عورت کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے، پھر پانی سے دھو ڈالے، اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حیض کا خون، کپڑے کی پاکی، اور نماز ہے۔ جواب بہت عملی ہے: ناپاکی کو ہٹایا جائے، پانی استعمال کیا جائے، پھر کپڑا نماز کے قابل ہو جاتا ہے۔ متن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کپڑا ضائع کرنے یا غیر ضروری پریشانی کی بات نہیں کی گئی، بلکہ صفائی کا واضح طریقہ بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کا خون کپڑے سے صاف کیا جائے۔
- پہلے کھرچنا، پھر پانی سے رگڑنا اور دھونا بتایا گیا۔
- صاف ہونے کے بعد اسی کپڑے میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
- دین میں عملی اور آسان رہنمائی دی گئی ہے۔
