صحیح بخاری حدیث ۳۰۴ - عورتوں کو صدقہ کی نصیحت

عورتوں کو صدقہ کی نصیحت: عید کے دن کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۴

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ، فَقُلْنَ : وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ، قُلْنَ : وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ؟ قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا ، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ؟ قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عید الاضحی یا عید الفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے، پھر عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ اے عورتوں کی جماعت، صدقہ کرو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ بتائی کہ آپ کو جہنم میں عورتیں زیادہ دکھائی گئیں۔ عورتوں نے پوچھا کیوں؟ تو آپ صلى الله عليه وسلم نے لعن طعن کی کثرت اور شوہر کی ناشکری کا ذکر فرمایا۔ پھر عقل اور دین کے نقصان کی وضاحت بھی خود حدیث کے اندر موجود ہے: گواہی کا معاملہ اور حیض کے دنوں میں نماز اور روزہ چھوڑنا۔ اس حدیث کو سمجھتے وقت اسی بیان تک رہنا چاہیے۔ اس کا بڑا سبق صدقہ، زبان کی حفاظت اور گھر کے حق کی قدر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ گناہوں سے بچنے اور نیکی بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
  • لعن طعن اور ناشکری سے بچنے کی خاص نصیحت کی گئی۔
  • حیض کے دنوں میں نماز اور روزہ چھوڑنے کا حکم حدیث میں بیان ہوا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں