صحیح بخاری حدیث ۳۰۳ - حائضہ بیوی اور ازار کا حکم

حائضہ بیوی سے قربت میں ازار باندھنے کا مسنون ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۳

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ ، " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَهِيَ حَائِضٌ " ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ .

میمونہ روایت:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، وہ پہلے ازار باندھ لیتیں۔ اور سفیان نے شیبانی سے اس کو روایت کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب اپنی بیویوں میں سے کسی سے قربت چاہتے اور وہ حائضہ ہوتیں تو آپ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے وہ ازار باندھ لیتیں۔ یہ بات مختصر ہے مگر اس میں واضح عملی رہنمائی موجود ہے۔ حدیث حیض، ازار اور میاں بیوی کی قربت کے آداب سے متعلق ہے۔ اس میں نہ سختی کا انداز ہے اور نہ بے احتیاطی کا۔ ایک طرف بیوی سے تعلق اور محبت باقی ہے، دوسری طرف حیض کی حالت کے خاص ادب کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ یہ حدیث عام فہم انداز میں بتاتی ہے کہ دینی حکم انسان کی فطری ضرورت کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے مناسب حد میں رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیض کے دنوں میں قربت کے لیے احتیاطی حد رکھی گئی۔
  • ازار باندھنا اس موقع پر ادب اور پاکیزگی کا ذریعہ تھا۔
  • میاں بیوی کے تعلق میں محبت کے ساتھ دینی حد بھی ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں