صحیح بخاری حدیث ۳۰۲ - حیض میں ازار باندھ کر قربت
حیض میں مباشرت کا ادب: ازار باندھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاشِرَهَا أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا ، قَالَتْ : وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ " ، تَابَعَهُ خَالِدٌ ، وَجَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ .
عائشہ روایت:
ہم ازواج میں سے کوئی جب حائضہ ہوتی، اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مباشرت کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازار باندھنے کا حکم دے دیتے باوجود حیض کی زیادتی کے۔ پھر بدن سے بدن ملاتے، آپ نے کہا تم میں ایسا کون ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہو۔ اس حدیث کی متابعت خالد اور جریر نے شیبانی کی روایت سے کی ہے۔ (یہاں بھی مباشرت سے ساتھ لیٹنا بیٹھنا مراد ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ازواج مطہرات میں سے کوئی حائضہ ہوتی اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قربت چاہتے تو آپ صلى الله عليه وسلم اسے ازار باندھنے کا حکم دیتے، پھر بدن سے بدن ملاتے۔ ترجمے میں صاف کیا گیا ہے کہ یہاں مباشرت سے مراد ساتھ لیٹنا بیٹھنا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حیض میں میاں بیوی کی قربت کا ادب ہے۔ اس میں بے احتیاطی نہیں بلکہ حد بندی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں کون ہے جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی طرح اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہو۔ اس جملے سے احتیاط کا پہلو سمجھ آتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ محبت کے ساتھ شرعی حد کا خیال بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کے دوران قربت میں حد اور احتیاط کا خیال رکھا جائے۔
- ازار باندھنے کا حکم پاکیزگی اور ادب کے لیے تھا۔
- خواہش پر قابو رکھنا اس حدیث کا نمایاں سبق ہے۔
