صحیح بخاری حدیث ۳۰۱ - اعتکاف میں حائضہ عورت سے خدمت لینا
اعتکاف اور حیض: نبی صلى الله عليه وسلم کا سر مبارک دھلوانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱
وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری طرف کر دیتے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور میں حیض کی حالت میں ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک دھو دیتی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر مبارک ان کی طرف کر دیتے، اور وہ حیض کی حالت میں ہونے کے باوجود آپ صلى الله عليه وسلم کا سر دھو دیتیں۔ اس سے بات صاف سمجھ آتی ہے کہ حیض والی عورت کو ناپاک سمجھ کر ہر کام سے الگ کر دینا درست انداز نہیں۔ حدیث کا اصل موضوع اعتکاف، حیض اور پاک خدمت ہے۔ یہاں مسجد میں اعتکاف کرنے والے شخص کا سر باہر کی طرف کرنا اور گھر والی کا اسے دھونا بیان ہوا ہے۔ اس میں نرمی، پاکیزگی اور گھر کے تعلق کی خوبصورت مثال ملتی ہے۔ حیض کی حالت عبادت کے کچھ احکام بدل دیتی ہے، مگر عورت کو عام انسانی خدمت، محبت اور تعاون سے محروم نہیں کرتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کی حالت میں عورت پاک خدمت کر سکتی ہے، جیسے سر دھونا۔
- اعتکاف کے دوران ضرورت کے مطابق گھر والوں سے جائز مدد لی جا سکتی ہے۔
- حیض کو عورت سے دوری یا نفرت کی وجہ نہیں بنانا چاہیے۔
