صحیح بخاری حدیث ۲۹۹ - ایک برتن سے غسل جنابت
ایک برتن سے غسل جنابت: سادگی اور پاکی کا عمل
صحیح بخاری : ۲۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۹
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ كِلَانَا جُنُبٌ .
عائشہ روایت:
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، حالانکہ دونوں جنبی ہوتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، جبکہ دونوں جنبی ہوتے۔ روایت کا اصل موضوع غسل جنابت اور ایک برتن کے پانی کا استعمال ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غسل کے لیے الگ الگ برتن ہونا لازم نہیں بتایا گیا، بلکہ ایک ہی برتن سے غسل کا عمل نقل ہوا ہے۔ حدیث میں گھریلو سادگی، پاکی کا اہتمام، اور میاں بیوی کے درمیان جائز قربت کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ متن صرف غسل کے عمل کو بیان کرتا ہے؛ اس سے آگے کوئی اضافی فقہی دعویٰ نہ کیا جائے۔ لوگ اسے ایک برتن سے غسل، نبی صلى الله عليه وسلم کا غسل جنابت، اور عائشہؓ کے ساتھ غسل کی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کا عمل بیان ہوا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کے معاملات میں سادگی نظر آتی ہے۔
- میاں بیوی کے درمیان جائز قربت کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- غسل جنابت پاکی کا اہم عمل ہے۔
