صحیح بخاری حدیث ۳۰۰ - حیض میں ازار باندھ کر قربت

حیض میں ازار باندھ کر قربت: حدیث کی حد میں سمجھیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۰

وَكَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ فَيُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ .

‏‏‏‏ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم فرماتے، پس میں ازار باندھ لیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ مباشرت کرتے، اس وقت میں حائضہ ہوتی۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم فرماتے، وہ ازار باندھ لیتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ مباشرت فرماتے، جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتیں۔ یہاں مباشرت سے مراد وہ جائز قربت ہے جو متن میں ازار باندھنے کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ حدیث کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ حیض کی وجہ سے بیوی سے مکمل دوری لازم نہیں، مگر ایک حد اور ادب رکھا گیا۔ اس روایت کو بہت احتیاط سے سمجھنا چاہیے اور اس سے وہ بات نہیں نکالنی چاہیے جو حدیث کے الفاظ میں موجود نہیں۔ لوگ اس حدیث کو حیض میں مباشرت، حائضہ بیوی سے قربت، اور ازار باندھنے والی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیض میں بیوی سے مکمل دوری لازم نہیں بتائی گئی۔
  • حدیث میں ازار باندھنے کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔
  • جائز قربت میں ادب اور حد کا خیال رکھا گیا۔
  • متن سے باہر کوئی اضافی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں