صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۴ - نر جانور کی جفتی کی اجرت سے ممانعت

نر جانور کی جفتی کی اجرت: عسب الفحل کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۸۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرکدانے کی اجرت لینے سے منع فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عسب الفحل یعنی نر جانور کی جفتی کی اجرت لینے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرکدانے کی اجرت لینے سے منع فرمایا۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ بعض معاملات میں بظاہر پیسہ مل سکتا ہے، لیکن شریعت اس آمدنی کو پسند نہیں کرتی۔ اس روایت میں صرف ممانعت بیان ہوئی ہے، اس لیے اس سے آگے اپنی طرف سے تفصیل بڑھانا درست نہیں۔ عسب الفحل حدیث، نر جانور کی اجرت، اور ممنوع کمائی جیسے سرچ ٹرمز اسی روایت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ کمائی کے ہر طریقے کو جائز نہ سمجھ لے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سامنے رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نر جانور کی جفتی پر اجرت لینے سے منع کیا گیا ہے۔
  • ہر مالی فائدہ شرعی طور پر درست نہیں ہوتا۔
  • کمائی کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • حدیث میں عسب الفحل کے معاملے کو صاف لفظوں میں منع کیا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں