صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۵ - خیبر کی زمین اور آدھی پیداوار کا معاملہ
خیبر کی زمین کی حدیث: مزارعت اور آدھی پیداوار کا بیان
صحیح بخاری : ۲۲۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۸۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ ، أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا ، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْمَزَارِعَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ نَافِعٌ لَا أَحْفَظُهُ ،
عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہودیوں کو) خیبر کی زمین دے دی تھی کہ اس میں محنت کے ساتھ کاشت کریں اور پیداوار کا آدھا حصہ خود لے لیا کریں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے یہ بیان کیا کہ زمین کچھ کرایہ پر دی جاتی تھی۔ نافع نے اس کرایہ کی تعیین بھی کر دی تھی لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث مزارعت، زمین کی کاشت اور پیداوار کی تقسیم کے بارے میں ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو دی کہ وہ اس میں محنت کریں، کاشت کریں، اور جو پیداوار نکلے اس کا آدھا حصہ انہیں ملے۔ اس روایت میں ایک عملی معاملہ سامنے آتا ہے کہ زمین ایک طرف سے ہو اور محنت دوسری طرف سے، پھر پیداوار طے شدہ حصے کے مطابق تقسیم ہو۔ اسی لیے خیبر کی زمین کی حدیث، مزارعت کی حدیث اور آدھی پیداوار والا معاملہ عام سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ زمین کچھ کرایہ پر دی جاتی تھی، مگر نافع نے جو کرایہ بتایا تھا وہ راوی کو یاد نہ رہا۔ اس سے روایت کی امانت بھی سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین اور محنت کے معاملے میں پہلے سے حصہ طے کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ حدیث میں خیبر کا معاملہ آیا ہے۔
- زرعی کام میں محنت کرنے والے کا حصہ واضح ہونا چاہیے۔
- راوی نے جو بات یاد نہ رہی اسے امانت کے ساتھ ذکر کیا۔
- حدیث میں خیبر کی زمین پر آدھی پیداوار کا معاملہ بیان ہوا ہے۔
