صحیح بخاری حدیث ۲۳۲۹ - خیبر میں نصف پیداوار کا معاہدہ
بٹائی کی حدیث: خیبر میں پھل اور اناج کا آدھا حصہ
صحیح بخاری : ۲۳۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۲۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " عَامَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے پھل اور اناج کی آدھی پیداوار پر وہاں کے رہنے والوں سے معاملہ کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۲۹ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والوں سے وہاں کے پھل اور اناج کی آدھی پیداوار پر معاملہ کیا۔ متن مختصر ہے مگر بات صاف ہے۔ پیداوار میں پھل بھی شامل تھے اور کھیتی کی پیداوار بھی۔ اس حدیث کو لوگ بٹائی کی حدیث یا خیبر کی زمین والی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت میں نہ لمبی بحث ہے، نہ مختلف شرطوں کا ذکر، بلکہ صرف ایک طے شدہ معاملہ بیان ہوا ہے کہ خیبر کی پیداوار کا نصف حصہ مقرر تھا۔ اس لیے اس حدیث سے اتنا ہی سمجھنا چاہیے کہ اس خاص معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آدھی پیداوار پر معاہدہ ثابت ہے۔ دوسرے مسائل کی تفصیل اسی متن میں نہیں، اس لیے اپنی طرف سے غیر ضروری نتیجہ شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر کے پھل اور اناج کی آدھی پیداوار پر معاملہ ہوا۔
- حدیث میں پھل اور کھیتی دونوں کا ذکر ہے۔
- معاہدے کا حصہ واضح تھا۔
- مختصر حدیث سے وہی بات لی جائے جو متن میں موجود ہے۔
