صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۱ - خیبر کی زمین پر محنت اور حصہ
مزارعت کی حدیث: خیبر کی زمین پر کام اور نصف پیداوار
صحیح بخاری : ۲۳۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا ، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا خَرَجَ مِنْهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر سونپی تھی کہ اس میں محنت کریں اور جوتیں بوئیں اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ لیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر سونپی کہ وہ اس میں کام کریں، اسے جوتیں بوئیں، اور جو پیداوار نکلے اس کا آدھا حصہ ان کے لیے ہو۔ یہ روایت مزارعت کی بحث میں بہت تلاش کی جاتی ہے، کیونکہ اس میں زمین، محنت، کاشت اور پیداوار کے حصے کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ زمین ایک طرف سے تھی اور محنت دوسری طرف سے، پھر پیداوار کا حصہ طے کیا گیا۔ حدیث میں یہی خاص صورت بیان ہوئی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ زرعی معاملہ کرتے وقت ذمہ داری اور حصہ صاف ہونا چاہیے۔ اس روایت میں خیبر کا نام، کام کی شرط، بوائی، اور آدھی پیداوار سب واضح الفاظ میں آئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر کی زمین پر کام کرنے کی شرط رکھی گئی۔
- جوتنے بونے کی محنت کرنے والوں کو آدھی پیداوار ملنی تھی۔
- زرعی معاملے میں کام اور حصہ واضح ہونا چاہیے۔
- حدیث ایک خاص خیبر کے معاملے کو بیان کرتی ہے۔
