صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۸ - خیبر کا معاملہ اور جلا وطنی
خیبر کی حدیث: نصف پیداوار کا عارضی معاملہ
صحیح بخاری : ۲۳۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَجْلَى الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا ، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ ، وَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا ، فَسَأَلَتْ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ بِهَا ، أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ ، وَأَرِيحَاءَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب خیبر پر) فتح حاصل کی تھی (دوسری سند) اور عبدالرزاق نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو سر زمین حجاز سے نکال دیا تھا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی تو آپ نے بھی یہودیوں کو وہاں سے نکالنا چاہا تھا۔جب آپ کو وہاں فتح حاصل ہوئی تو اس کی زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی۔ آپ کا ارادہ یہودیوں کو وہاں سے باہر کرنے کا تھا، لیکن یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں یہیں رہنے دیں۔ ہم (خیبر کی اراضی کا) سارا کام خود کریں گے اور اس کی پیداوار کا نصف حصہ لے لیں گے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تک ہم چاہیں تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ وہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کی فتح کے بعد کا معاملہ بیان ہوا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو سرزمین حجاز سے نکالا۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر پر فتح ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرمایا۔ زمین اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی تھی۔ یہودیوں نے درخواست کی کہ انہیں وہیں رہنے دیا جائے، وہ زمین کا کام کریں گے اور نصف پیداوار لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ہم چاہیں اس شرط پر تمہیں رہنے دیں گے۔ پھر وہ وہاں رہے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کیا۔ خیبر کی حدیث میں ملکیت، عارضی اجازت، زرعی کام اور نصف پیداوار سب واضح الفاظ میں آئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر کی زمین اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی بتائی گئی۔
- یہودیوں کو عارضی طور پر نصف پیداوار پر کام کرنے دیا گیا۔
- اجازت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مشیت کے ساتھ جوڑا۔
- بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حجاز سے نکال دیا۔
