صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۹ - کھیت خود بوؤ یا دوسروں سے بواؤ

کھیت کے ٹھیکے کی حدیث: خود کاشت کرو یا دوسروں سے کراؤ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ ظُهَيْرٌ : " لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا ، قُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ؟ قُلْتُ : نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ ، وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ ، قَالَ : لَا تَفْعَلُوا ، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا " . قَالَ رَافِعٌ : قُلْتُ : سَمْعًا وَطَاعَةً .

ظہیر بن رافع روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا (بظاہر ذاتی) فائدہ تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے۔ ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو (بونے کے لیے) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں۔ اسی طرح کھجور اور جَو کے چند وسق پر۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ۔ ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان) میں نے سنا اور مان لیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۹ کا خلاصہ

ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ایسے معاملے سے منع کیا جس میں بظاہر ان کا فائدہ تھا۔ جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ حق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نہر کے قریب زمین کی شرط پر یا کھجور اور جو کے چند وسق پر اسے دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ خود اس میں کھیتی کرو، یا دوسروں سے کراؤ، یا اسے روک رکھو۔ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے سنا اور مان لیا۔ یہ حدیث کھیت کے معاملے میں اطاعت، صاف شرط اور مشتبہ فائدے کو چھوڑنے کا سبق دیتی ہے۔ اس میں اصل بات نبی کے حکم پر سمع و طاعت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بظاہر ذاتی فائدے سے بڑھ کر ہے۔
  • نہر کے قریب حصے یا مقررہ وسق والی شرط سے منع کیا گیا۔
  • کھیت خود کاشت کرنے، دوسروں سے کرانے یا روک رکھنے کا ذکر آیا۔
  • صحابی نے سنا اور اطاعت قبول کی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں