صحیح بخاری حدیث ۲۳۴۰ - زمین خود بوؤ یا بخش دو
زمین خود بونے یا دوسروں کو دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۳۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۴۰
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانُوا يَزْرَعُونَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .
جابر روایت:
صحابہ تہائی، چوتھائی یا نصف پر بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بوئے ورنہ دوسروں کو بخش دے۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو اسے یوں ہی خالی چھوڑ دے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۴۰ کا خلاصہ
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ تہائی، چوتھائی یا نصف پیداوار پر بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بوئے، ورنہ کسی کو بخش دے۔ اگر یہ بھی نہ کرے تو اپنی زمین روک رکھے۔ یہ حدیث زمین، کاشت اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے موضوع پر بہت واضح ہے۔ اس میں تین راستے بیان ہوئے: خود کاشت کرنا، زمین کسی کو دے دینا، یا اسے اپنے پاس روک لینا۔ متن میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر تفصیل اسی ایک جملے سے طے ہو گئی، بلکہ یہاں ایک عملی رہنمائی دی گئی ہے کہ زمین کو ایسے معاملات میں نہ ڈالا جائے جو مسئلہ بنیں۔ زمین کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ اگر زمین ہے تو اسے مفید طریقے سے استعمال کیا جائے، اور اگر خود نہیں کرنا تو دوسروں کو فائدہ دینے کا راستہ کھلا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین ہو تو خود کاشت کرنے کی ترغیب دی گئی۔
- خود نہ بو سکے تو کسی کو دینے کا ذکر آیا۔
- یہ بھی نہ کرے تو زمین روک رکھنے کی بات فرمائی گئی۔
- بٹائی کے رائج طریقوں کے بعد یہ رہنمائی دی گئی۔
