صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۰ - بھائی کو زمین دینا بہتر ہے
بھائی کو زمین مفت دینے کی حدیث اور خیر خواہی
صحیح بخاری : ۲۳۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : " قُلْتُ لِطَاوُسٍ : لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ، قَالَ : أَيْ عَمْرُو ، إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُغْنِيهِمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ . أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، وَلَكِنْ قَالَ : " أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا " .
عمرو بن دینار روایت:
میں نے طاؤس سے عرض کیا، کاش! آپ بٹائی کا معاملہ چھوڑ دیتے، کیونکہ ان لوگوں (رافع بن خدیج اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم وغیرہ) کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔اس پر طاؤس نے کہا کہ میں تو لوگوں کو زمین دیتا ہوں اور ان کا فائدہ کرتا ہوں۔ اور صحابہ میں جو بڑے عالم تھے انہوں نے مجھے خبر دی ہے۔ آپ کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا۔ بلکہ آپ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو (اپنی زمین) مفت دیدے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا محصول لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں طاؤس رحمہ اللہ سے بٹائی کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ کاش آپ مخابرہ چھوڑ دیتے، کیونکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس نے جواب دیا کہ میں لوگوں کو زمین دیتا ہوں اور ان کا فائدہ کرتا ہوں۔ پھر انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حوالہ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کو اپنی زمین مفت دے دے تو یہ اس کے لیے مقررہ محصول لینے سے بہتر ہے۔ اس حدیث میں زمین، فائدہ، بھائی چارہ اور احسان کا پہلو نمایاں ہے۔ متن سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین سے دوسرے کو فائدہ پہنچا دے تو یہ پسندیدہ عمل ہے۔ یہاں اصل زور خیر خواہی پر ہے، نہ کہ ہر معاملے کی مکمل فقہی تفصیل پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھائی کو زمین سے فائدہ دینا بہتر بتایا گیا ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ممانعت کی ایک خاص وضاحت نقل کی۔
- مقررہ محصول لینے کے بجائے احسان کا پہلو پسندیدہ ہے۔
- زمین کے معاملے میں دوسروں کا فائدہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔
