صحیح بخاری حدیث ۲۳۲۸ - خیبر کی پیداوار پر معاملہ

خیبر کی زمین اور آدھی پیداوار کا معاملہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۲۸

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةَ وَسْقٍ ، ثَمَانُونَ وَسْقَ تَمْرٍ ، وَعِشْرُونَ وَسْقَ شَعِيرٍ " ، فَقَسَمَ عُمَرُ خَيْبَرَ ، فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ يُمْضِيَ لَهُنَّ ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْأَرْضَ ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوَسْقَ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ اخْتَارَتِ الْأَرْضَ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبر کے یہودیوں سے) وہاں (کی زمین میں) پھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے۔ جس میں اسی وسق کھجور ہوتی اور بیس وسق جو۔عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) جب خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو آپ نے اس کا اختیار دیا کہ (اگر وہ چاہیں تو) انہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے۔ یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے۔ چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا۔ اور بعض نے (پیداوار سے) وسق لینا پسند کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں خیبر کی زمین کا معاملہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پھل، کھیتی اور جو بھی پیداوار نکلے، اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا۔ اس پیداوار میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے، جن میں اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو تھے۔ بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ چاہیں تو پانی اور زمین کا قطعہ لے لیں، یا پہلے کی طرح وسق لیتے رہیں۔ بعض نے زمین کو پسند کیا اور بعض نے وسق کو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زمین پسند کی۔ خیبر کی حدیث سے ایک منظم زرعی معاملہ سامنے آتا ہے، جس میں پیداوار کا حصہ، اہل خانہ کا حق، اور بعد میں اختیار دینے کا طریقہ صاف بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خیبر میں پیداوار کے آدھے حصے پر معاملہ ہوا۔
  • ازواج مطہرات کے لیے کھجور اور جو کا حصہ مقرر تھا۔
  • عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں انہیں اختیار دیا۔
  • معاملات میں واضح حصہ اور اختیار دینے کی صورت متن میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں