صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۶ - زمین کرایہ پر دینے سے ممانعت
زمین کرایہ پر دینے کی حدیث: مزارع کے کرائے کا بیان
صحیح بخاری : ۲۲۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۸۶
وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ .
رافع بن خدیج روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے بیان کیا، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ (خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وہاں کی زمین کا معاملہ برابر چلتا رہا) یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں زمین کے کرائے اور کھیتی کے معاملے کا ذکر ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بیان ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا۔ اسی روایت کے دوسرے حصے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خیبر کے یہودیوں کا معاملہ بھی آیا کہ وہ معاملہ چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔ یہاں دو باتیں الگ الگ انداز میں آئی ہیں: ایک زمینوں کے کرایہ سے ممانعت، دوسری خیبر کے معاملے کا جاری رہنا اور پھر ختم ہونا۔ اس لیے اس حدیث کی شرح میں دونوں باتوں کو ملانا نہیں چاہیے۔ زمین کا کرایہ، کراء المزارع اور مزارعت کی حدیث جیسے الفاظ اسی روایت سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں زمینوں کو کرایہ پر دینے سے ممانعت بیان ہوئی ہے۔
- خیبر کا معاملہ ایک خاص عملی صورت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
- حدیث کے مختلف حصوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔
- زرعی معاملات میں شرعی ہدایت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
