صحیح بخاری حدیث ۲۷۲۰ - خیبر کی زمین اور آدھی پیداوار

خیبر کی زمین کی حدیث: کاشت، محنت اور آدھی پیداوار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۲۰

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا ، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا " .

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی تھی کہ اس میں کام کریں اور اسے بوئیں تو آدھی پیداوار انہیں دی جایا کرے گی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۷۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی کہ وہ اس میں کام کریں اور اسے کاشت کریں، اور جو پیداوار نکلے اس کا آدھا حصہ انہیں دیا جائے۔ خیبر کی زمین کی حدیث میں معاملہ صاف ہے: زمین دی گئی، کام اور کاشت ان کے ذمے ہوئی، اور پیداوار کا آدھا حصہ مقرر ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین، محنت اور پیداوار کے معاملے میں شرط واضح کی گئی تھی۔ متن میں صرف اتنی بات آئی ہے، اس لیے اسی پر بات رکھنی چاہیے۔ یہ حدیث مزارعت، کاشت کاری اور پیداوار کی تقسیم سے متعلق ایک اہم روایت ہے، جس میں معاہدے کی شرط کو صاف طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زمین کام اور کاشت کے لیے شرط کے ساتھ دی گئی۔
  • پیداوار کا آدھا حصہ کام کرنے والوں کے لیے مقرر ہوا۔
  • کاشت کاری کے معاملے میں شرط واضح ہونی چاہیے۔
  • معاہدے میں محنت اور حصے کی بات پہلے سے طے کی جا سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں