صحیح بخاری حدیث ۲۷۰۲ - خیبر کی صلح اور امن کا معاملہ
خیبر کی صلح کی حدیث: امن کے زمانے میں سفر کا ذکر
صحیح بخاری : ۲۷۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۰۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ " .
سہل بن ابی حثمہ روایت:
عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما کے خیبر جانے کا ذکر ہے۔ حدیث کا اصل نکتہ یہ ہے کہ اس وقت خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی صلح تھی۔ متن میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ دونوں صحابہ خیبر گئے، اور اس زمانے میں وہاں صلح کا معاملہ قائم تھا۔ اس لیے خیبر کی صلح کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ لوگوں اور قوموں کے درمیان جب امن یا صلح کا معاملہ ہو تو اسے ایک معلوم حالت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اس روایت میں کسی جنگ یا جھگڑے کی تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو متن میں موجود ہے۔ یہ حدیث صلح، امن اور طے شدہ تعلقات کے ذکر کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی علاقے کے ساتھ صلح ہو تو اس حالت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
- حدیث میں جو بات بیان ہو، اسی تک بات محدود رکھنی چاہیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کے سفر کا ذکر بھی صلح کے پس منظر میں آیا ہے۔
- امن کے زمانے کو جنگ کے معاملے سے الگ سمجھنا چاہیے۔
